کورونا وائرس کا کامیاب علاج: امریکی ماہرین بھی چین کے نقشِ قدم پر چل پڑے
دی جرنل آف کلینیکل انویسٹی گیشن ' کے تازہ شمارے میں میو کلینک' نیویارک کے طبّی تحقیقی ماہرین کا ایک مضمون شائع ہوا ہے. جس میں انہوں نے کہا ہے کہ' ناول کورونا وائرس کی ویکسین دستیاب ہونے میں کم از کم 18 مہینے لگ جائیں گے' لہذا اس وبا کی وقتی روک تھام کے لیے ضروری ہے کہ 'جو لوگ اس بیماری (کووِڈ 19) سے صحت یاب ہوچکے ہیں' ان کا بلڈ پلازما شدید متاثرین کو لگا دیا جائے . اپنے مضمون میں انہوں نے حالیہ تاریخ سے مثالیں پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ' پہلے بھی یہ حکمتِ عملی موثر ثابت ہوچکی ہے اور موجودہ ہنگامی حالات میں بھی اس سے استفادہ کیا جاسکتا ہے. جو لوگ ناول کورونا وائرس کے حملے سے بچ گئے ہیں ' ان تمام افراد کے جسمانی دفاعی نظام (امیون سسٹم) قدرتی طور پر ایسے پروٹین (اینٹی باڈیز) تیار کرنے لگے ہیں جنہوں نے ناول کورونا وائرس کے حملے کو ناکام بناتے ہوئے' بالآخر' ان مریضوں کو مکمل طور پر صحت یاب کردیا۔ طبّی حقائق کے مطابق' یہ اینٹی باڈیز ان افراد کے خوناب (بلڈ پلازما) میں آئندہ کئی مہینوں تک شامل رہیں گی. تاکہ جیسے ہی کوئی ناول کورونا وائرس دکھائی دے...