Posts

Showing posts from April 16, 2020

ڈبلیو ایچ او: پاکستان میں کورونا وائرس کا پھیلاؤ 55 فیصد تک ہوگیا ہے

Image
ہوشیار۔ خبردار، عالمی ادارہ صحت نے خطرے کی گھنٹی بجاتے ہوئے کہا ہے کہ ' پاکستان میں مقامی منتقلی کے ذریعے کورونا وائرس کا پھیلاؤ 55 فیصد تک ہوگیا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کورونا وائرس کی تشخیص کی اکثریت ان افراد میں ہے جن میں وائرس مقامی طور پر منتقل ہوا ۔ سب سے زیادہ ٹیسٹ پنجاب جبکہ سب سے کم ٹیسٹ خیبرپختونخوا میں کئے گئے۔ رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ ' اب تک سامنے آنے والے تقریبا 6 ہزار کیسز  میں  سے 3ہزار 286 یعنی  55فیصد  وہ   ہیں جنہیں مقامی طور پر وائرس لگا۔ پاکستان میں کئے گئے.  کُل تقریبا70 ہزار   ٹیسٹوں میں سے 41 ہزار پنجاب میں کئے گئے، سندھ کا دوسرا  نمبر ہے جہاں 13 ہزار ٹیسٹ کئے گئے۔ سب سے کم ٹیسٹ خیبرپختونخوا میں کئے گئے جہاں  صرف 107 ٹیسٹ فی دس لاکھ بنتی ہے۔ خیال رہے کہ ' ملک میں کورونا وائرس کے آج مزید 292 فراد میں مہلک وائرس کی تشخیص ہوئی جن میں سندھ سے 150 ، پنجاب میں 71 ، بلوچستان میں 32 خیبرپختونخوا میں 27 جبکہ اسلام آباد میں 9  اور گلگت بلتستان میں 3 کورونا وائرس کے کیسز کی...

کوررونا وائرس پر ہاورڈ اسکول آف پبلک ہیلتھ کی نئی تحقیق

Image
'ایک طرف ایک نئی تحقیق میں خبردار کردیا گیا ہے کہ امریکہ کو لاک ڈاون کو دو ہزار بائیس تک جاری رکھنا پڑے سکتا ہے اور اگر اایسا نہیں کیا گیاتو وائرس کے حملوں میں مزید شدت آسکتی ہے۔ دوسری طرف تو امریکہ کورونا کے مہلک وارجاری ہیں اور کورونا سے متاثرہ مریضوں میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے لیکن ایک طرف امریکی صدر نے ایک بار پھر لاک ڈاون کو نرم کرنے کا اشارہ دے دیا ہے۔ امریکہ میں کورونا وائرس اب تک چھبیس ہزار سے زائد ندگیوں کے چراغ گل کرچکا ہے. جبکہ مریضوں کی تعداد چھ لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے۔ اس کے باوجود امریکی صدر نےلاک ڈاون میں یکم مئی سے نرمی کا اشارہ دے دیا. ایسے وقت میں ہونے والی نئی تحقیق میں خبردار کردیا گیا ہے کہ ' امریکہ کو سماجی فاصلوں کے اصولوں کو دو ہزار بائیس تک برقرار رکھنا پڑے گا اور اس میں غیر ضروری نرمی حالات کو مزید سنگین کرسکتی ہے۔ عوام احتیاط کا دامن ہاتھ سےنہ چھوڑ یں. ڈاکٹر ظفر مرزاہاورڈ اسکول آف پبلک ہیلتھ کے ریسچرز کا کہنا ہے کہ ' اگر لاک ڈاون میں زیادہ نرمی کی گئی تووائرس کے پھیلاو پرقابو پانا مشکل ہو جاٗے گا۔  تحقیق میں کہاگیاہے کہ ' امری...

کرونا وائرس: کیا لاک ڈاون میں گھریلو تشدد بڑھ گیا؟

Image
برا ہو اس کرونا وائرس کا ' اس نے سکول کالج ' دفاتر ' کاروبار سب بند کر دئیے ہیں۔ لوگ گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے اور ایک دوسرے سے جدا رہنے کا موقعہ نہ رہا۔ وہ جو کام کی وجہ سے کچھ گھنٹے الگ الگ گزارتے تھے. گھر میں ہر دم ساتھ رہنے پر مجبور ہوئے۔ ''مجبور'' کا لفظ شائد آپ کو عجیب لگے مگر بعض گھروں پر یہ صادق آتا ہے۔ یقین نہ آئے تو ڈومیسٹک وائلینس کے الفاظ گوگل پر ڈال کر دیکھ لیجئے روح فرسا داستانیں کھل جائیں گی۔ بیٹی رخصت کرتے وقت والدین اکثر یہی کہتے ہیں شوہر کے گھر سے مرکر ہی نکلنا۔ شاید زمانے کی جدت میں یہ الفاظ دقیانوسی لگیں. مگر دل میں خواہش ہر ماں باپ کی یہی ہوتی ہے کہ بیٹی سدا اپنے گھر میں بسی رہے۔ اور اسی کوشش میں بیٹی اپنا گھر بچاتے بچاتے زندگی گزار دیتی ہے، حالانکہ گھر اس کا شاید ہوتا ہی نہیں ہے۔ پہلے ماں باپ کا اور پھر شوہر کا۔ کووڈ 19 کی وبا سے پہلے کے اعداد و شمار کے مطابق ہر پانچ میں سے ایک عورت جنسی یا جسمانی تشدد کا شکار ہوتی تھی۔ یہ تعداد پاکستان میں اور بھی فکرمندی کا باعث ہے۔ فرزانہ باری کے مطابق، پاکستان میں ہر تیسری عورت گھریلو...