کوررونا وائرس پر ہاورڈ اسکول آف پبلک ہیلتھ کی نئی تحقیق
'ایک طرف ایک نئی تحقیق میں خبردار کردیا گیا ہے کہ امریکہ کو لاک ڈاون کو دو ہزار بائیس تک جاری رکھنا پڑے سکتا ہے اور اگر اایسا نہیں کیا گیاتو وائرس کے حملوں میں مزید شدت آسکتی ہے۔
دوسری طرف تو امریکہ کورونا کے مہلک وارجاری ہیں اور کورونا سے متاثرہ مریضوں میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے لیکن ایک طرف امریکی صدر نے ایک بار پھر لاک ڈاون کو نرم کرنے کا اشارہ دے دیا ہے۔
امریکہ میں کورونا وائرس اب تک چھبیس ہزار سے زائد ندگیوں کے چراغ گل کرچکا ہے. جبکہ مریضوں کی تعداد چھ لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے۔
اس کے باوجود امریکی صدر نےلاک ڈاون میں یکم مئی سے نرمی کا اشارہ دے دیا. ایسے وقت میں ہونے والی نئی تحقیق میں خبردار کردیا گیا ہے کہ ' امریکہ کو سماجی فاصلوں کے اصولوں کو دو ہزار بائیس تک برقرار رکھنا پڑے گا اور اس میں غیر ضروری نرمی حالات کو مزید سنگین کرسکتی ہے۔
عوام احتیاط کا دامن ہاتھ سےنہ چھوڑ یں. ڈاکٹر ظفر مرزاہاورڈ اسکول آف پبلک ہیلتھ کے ریسچرز کا کہنا ہے کہ ' اگر لاک ڈاون میں زیادہ نرمی کی گئی تووائرس کے پھیلاو پرقابو پانا مشکل ہو جاٗے گا۔
تحقیق میں کہاگیاہے کہ ' امریکہ کولاک ڈاون کو اس وقت تک جاری رکھنا پڑے گا جب تک وائرس کی ویکسین تیار نہیں ہو جاتی اور اگر ایسا نہیں کیا گیا توموجودہ ہیلتھ سسٹم وائرس کے حملوں کا مقابلہ نہیں کرسکے گا۔
تحقیق میں واضح کردیاگیاہے کہ ' لاک ڈاون کو مختلف وقفوں میں کم یا زیادہ کیا جا سکتا ہے تاکہ معاشی بدحالی کے اثرات کو کچھ کم کیا جاسکے لیکن اس میں زیادہ نرمی انتہائی خطرناک ہوگی۔
ریسچرز نے خبردار کیا ہے کہ ' کورونا وائرس ابھی تک اپنے انتہائی سطح پر نہیں پہنچا اور ساتھ یہ کہ کر خطرے کی گھنٹی بج دی کہ کورونا دوہزار چوبیس میں ایک بار پھردنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔

Comments
Post a Comment