Posts

Showing posts from May 12, 2020

پاکستان میں 54 صحافی کرونا سے متاثر

Image
پاکستان میں کم از کم 54 صحافی اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران کرونا وائرس سے متاثر ہوچکے ہیں۔ کے مطابق ' پیر کو فریڈم نیٹ ورک رائٹس گروپ کی جانب سے کرونا سے متاثرہ صحافیوں کے اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے کہا گیا کہ ' اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ میڈیا سے منسلک افراد اس وائرس سے بچاؤ کی تدابیر پر ٹھیک سے عمل پیرا نہیں ہورہے۔ کوئٹہ کے ایک صحافی جو سب سے پہلے کرونا وائرس سے متاثر ہوئے تھے کا کہنا ہے کہ ' ایک روز جب وہ دفتر میں تھے تو انہیں بخار کے ساتھ چکر آرہے تھے پھر جب وہ اپنا کام مکمل کرکے گھر پہنچے تو ان کا بخار تیز اور جسم میں شدید درد ہونے لگا. جس کے باعث ان کیلئے کھڑا ہونا تک ممکن نہیں رہا تھا۔ ان کے علاوہ ان کے دفتر کے مزید 6 افراد بھی کرونا وائرس سے متاثر ہوئے تھے۔ اسی طرح کی صورتحال ملک کے دیگر حصوں میں واقع میڈیا اداروں میں بھی پیش آئی جہاں اسٹاف ایک دوسرے سے خاصے قریب رہتے ہوئے کام کرتے ہیں۔ میڈیا کے اداروں نے صحافیوں کیلئے اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران سماجی فاصلے اور بچاؤ کے حوالے سے اپنے اپنے طور پر گائیڈ لائنز جاری کی ہیں لیکن ایسا لگتا ہے کہ فیلڈ می...

سندھ میں کاروبار کھولنے کے اوقات میں تبدیلی

Image
سندھ حکومت نے صوبہ بھر میں کاروبار کھولنے کے اوقات تبدیل کردیئے. اب دکانیں صبح 5 سے شام 5 بجے تک کے بجائے صبح 6 بجے سے شام 4 بجے تک کھلیں گی۔ 'محکمہ داخلہ سندھ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق تاجروں کو پہلے صبح 5 بجے سے شام 5 بجے تک کاروبار کھولنے کی اجازت دی گئی تاہم یہ اوقات کار تبدیل کردیئے گئے ہیں. اب تاجر صبح 6 بجے سے شام 4 بجے تک دکانیں کھول سکتے ہیں۔ نوٹیفکیشن کے مطابق ' عوام کی نقل و حرکت پر شام 5 بجے سے صبح 6 بجے تک پابندی ہوگی. جو پہلے شام 5 بجے سے صبح 8 بجے تک تھی. جبکہ کاروبار ہفتے میں 4 دن پیر تا جمعرات کھولنے کی اجازت ہوگی. جمعہ ' ہفتہ اور اتوار کو مکمل لاک ڈاؤن رہے گا۔ قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے ملک بھر میں 9 مئی سے جزوی لاک ڈاؤن مرحلہ وار ختم کرنے کا اعلان کیا تھا. جس کے بعد صوبہ سندھ نے بھی 11 مئی سے چھوٹی دکانیں اور کاروبار صبح 5 سے شام 5 بجے تک کھولنے کی اجازت دی تھی۔ اس سے قبل ترجمان سندھ حکومت مرتضیٰ وہاب نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ ' سندھ حکومت کو کرونا وائرس کی روک تھام کیلئے عوام کا بھرپور تعاون حاصل رہا....

شرح نمو منفی ڈیڑھ فیصد تک جانے کا خدشہ ہے، عبدالحفیظ شیخ

Image
مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے ملکی شرح نمو منفی 1.5 فیصد تک رہنے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ عبدالحفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ ' کرونا کی وباء سے پہلے ملکی شرح نمو کا تخمینہ 3 فیصد کے لگ بھگ تھا تاہم اب یہ شرح منفی 1.5 فیصد تک ہو سکتی ہے۔ انہوں نے  کہا کہ ' قرضوں پر ریلیف سے متعلق جی 20 ممالک کا رویہ زیادہ اُمید افزاء نہیں البتہ چین ' سعودیہ اور متحدہ عرب امارات سمیت دوست ممالک  کے ایک ارب 80 کروڑ ڈالر کی مالیت کے قرضے دسمبر 2020ء تک ری شیڈول ہونے کے مراحل میں ہیں۔ مشیر خزانہ نے قرضوں کا مزید بوجھ اٹھانے سے پہلے قرضوں کی مقررہ قانونی حد پیش نظر رکھنے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ' مستقبل میں زیادہ تر نئے قرضے پرانے قرضوں کی واپسی کیلئے ہی ہوں گے۔ دوسری جانب اقتصادی امور ڈویژن نے کہا ہے کہ ' جی 20 ممالک کے ساتھ قرضوں کی ری شیڈولنگ کا طریقۂ کار جلد طے کرلیا جائے گا۔

کرونا کی وبا میں بچے شدید بیمار ہو رہے ہیں

Image
کرونا کی وبا کے دوران ابتدا میں یہ کہا جا رہا تھا کہ ' بچے اس وائرس سے محفوظ ہیں۔ زیادہ خطرہ معمر لوگوں کو ہے اور ان میں بھی پچاس سے ستر برس کے لوگوں کو۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اگرچہ اس وبا کا زور ابھی ٹوٹا نہیں تھا کہ اچانک بچے بہت بیمار ہو کر ہسپتال پہنچنا شروع ہو گئے۔ وہاں اس بارے میں تحقیق کی جا رہی ہے کہ ' آیا بچے کووڈ 19 کا شکار ہو رہے ہیں؟ اب ان ہی علامات کے ساتھ بچے نیویارک کے اسپتالوں میں بھی لائے جا رہے ہیں۔ گذشتہ ہفتے کے دوران 85 بچے بیمار ہو کر اسپتال پہنچے اور ان میں سے تین جانبر نہ ہو سکے۔ طبی ماہرین نے فوراً اس بات کی تحقیق شروع کر دی ہے کہ آیا ان بچوں کی یہ حالت کرونا وائرس کی وجہ سے ہے۔ ڈاکٹر حفیظ رحمان ' نیویارک کی ہافسٹرا یونیورسٹی کے میڈیکل سکول میں بچوں کے امراض کے شعبے کے اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔ کئی ایوارڈز لے چکے ہیں. جن میں مارٹن لوتھر کنگ ایوارڈ بھی شامل ہے۔ وہ کہتے ہیں یہ بڑی تشویش کی بات ہے کہ ' بچے اتنے بیمار ہو کر اسپتال پہنچ رہے ہیں لیکن ڈاکٹروں کی پوری کوشش ہے کہ ان کی اس حالت کا صحیح اندازہ لگا کر درست تشخیص کریں تاکہ ا...