Posts

Showing posts from April 4, 2020

تعمیراتی پیکج کے اعلان پر( آباد) کا اظہار تشکر

Image
وزیراعظم عمران خان ' کی جانب سے تعمیراتی پیکج کے اعلان پر ایسوسی ایشن آف بلڈرزاینڈ ڈیولپرز کا اظہار تشکر کیا گیا ہے۔ چئیرمین آباد محسن شیخانی نے کہا ہے کہ ' تعمیراتی پیکج سے اس شعبے کو ترقی ملے گی اور معیشت کو بھی استحکام حاصل ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ' تعمیراتی سیکٹر کو صنعت کا درجہ دینا ' فکس ٹیکس ریجیم کا نفاذ آباد کا دیرینہ مطالبہ تھا. محسن شیخانی فکس ٹیکس ریجیم کے نفاذ سے تعمیراتی شعبے میں شفافیت آئے گی۔ انہوں نے مزید کہا سیلز ٹیکس کی چھوٹ سے تعمیراتی شعبے میں سرمایہ کاری بڑھے گی. محسن شیخانی گھروں قیمت میں کمی آئے گی اور کم آمدنی والے طبقے کا اپنا گھر کا خواب بھی شرمندہ تعبیر ہوسکے گا ۔ یاد رہے کہ ' اس سے قبل وزیر اعظم  عمران خان نے  تعمیرات کے شعبے کے لیے 1200 ارب روپے کے پیکج کا اعلان  کرتے ہوئے کہا کہ '  تعمیرات کے شعبہ میں پیسہ لگانے والوں سے کوئی سوال نہیں ہوگا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ' شعبہ تعمیرات کو انڈسٹری کا درجہ دے رہے ہیں'14 اپریل سے تعمیراتی سیکٹر کھل جائیں گے۔چاہتا ہوں تعمیرات کے شعبے سے وابستہ لوگوں کو روزگار ملے۔ عمران خان ...

اقامہ ہولڈرز کے امارات میں داخلے پر مزید دوہفتے پابندی

Image
متحدہ عرب امارات کی حکومت نےکرونا وائرس کی وباء کی روک تھام کے لیے اقامہ رکھنے والے افراد کی واپسی پر عارضی پابندی مزید دو ہفتے بڑھا دی ہے۔  'اماراتی حکومت کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایسے افراد جو امارات کا اقامہ رکھتے ہیں. مگر اس وقت بیرون ملک ہیں. وہ کرونا وائرس کی روک تھام کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کے پیش نظر واپس نہ آئیں۔ اماراتی حکومت نے اقامہ کے حاملین کے دو ہفتے تک مزید پابندی عاید کی ہےاور اس میں توسیع کی جا سکتی ہے۔ امارات کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ'  بہت سے غیر ملکی شہری متحدہ عرب امارات کا اقامہ رکھتے ہیں. مگر وہ اس وقت امارات میں نہیں۔ وہ اس وقت تک واپس نہ آئیں جب تک کرونا کا خطرہ موجود ہے یا اس حوالے سے حکومت کا کوئی نیا فیصلہ نہیں آجاتا۔ ایسے افراد جو امارات میں موجود ہیں اور ان کے اقامے ایکسپائر ہوچکے ہیں. متحدہ عرب امارات نے ان کے اقاموں کی مدت دو ماہ بڑھا دی ہے اور یہ بھی اعلان کیا ہے کہ اقاموں سے متعلق کسی قسم کا جرمانہ کسی پر بھی عائد نہیں کیا جائے گا۔

کروناوائرس کی افواہوں کا سدباب، گوگل 65لاکھ ڈالر خرچ کریگا

Image
گوگل ''کرونا وائرس'' سے متعلق افواہوں اور جھوٹی خبروں کے سد باب کیلئے حقائق کی جانچ کرنیوالے اداروں پر 65 لاکھ (6.5 ملین) ڈالر خریچ کرے گا۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق معروف سرچ انجن گوگل کی نیوز لیب کے سربراہ الیگزئس کا کہنا ہے کہ ' کرونا وائرس کی وباء سے متعلق پھیلنے والی افواہوں اور بے بنیاد خبروں کی وجہ سے حقائق کی جانچ کرنیوالے ادارے جو اکثر کم بجٹ پر چلائے جاتے ہیں.کی مانگ میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے. موجودہ حالات میں غیرمصدقہ معلومات غیریقینی اور خوف پھیلانے کا سبب بنے کے ساتھ ہمیں سب سے زیادہ متاثر کررہی ہیں. اسی لئے گوگل حقائق کی جانچ کرنیوالوں کے ساتھ تعاون کررہا ہے۔ عالمی ادارہ پوئنٹر انسٹیٹیوٹ نے گزشتہ سال ایک رپورٹ میں نشاندہی کی تھی کہ فیکٹ چیکنگ کے اداروں کا سالانہ بجٹ 20 ہزار ڈالر سے بھی کم ہوتا ہے۔ الیگزئس منتزرلس نے مزید کہا ہے کہ ' ہمارا یہ اقدام پریشانی اور ذہنی دباؤ کی اس گھڑی میں معاون ثابت ہوگا. گوگل صحافیوں کیلئے ایک ایسا ڈیٹابیس بھی تیار کررہا ہے جس میں صحت عامہ کے وسائل سے متعلق معلومات فراہم کی جائیں گ...

ڈسکہ: ضرورتمند بزرگ کی ایمانداری رنگ لے آئی

Image
سیالکوٹ کی تحصیل ڈسکہ میں ایک بزرگ شہری کی ایمانداری اور فرض شناسی رنگ لے آئی. انہیں سڑک پر ملنے والی خطیر رقم انتظامیہ نے حقدار تک پہنچادی۔ دو روز قبل 70 سالہ بزرگ عبدالحمید راشن کی تلاش میں ڈسکہ شہر آئے تھے کہ ' انہیں سڑک پر 2 لاکھ 65 ہزار ملے جو انھوں نے اصل مالک کو پہنچا دیَے جانے کی درخواست کرتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر کے حوالے کردیئے تھے.اسٹنٹ کمشنر نے رقم حقدار تک پہنچانے کی یقین دہانی کراتے ہوئے بزرگ کو خراج تحسین پیش کیا تھا کہ ' اس کٹھن وقت میں اور خود کو ضرورت درپیش ہونے کے باوجود انہوں نے اپنے نفس پر قابو رکھا اور ایمانداری کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا۔ عبدالحمید ان دنوں فاقوں کا شکار ہونے کے باعث اپنے اھل خانہ کیلئے راشن کی تلاش میں سرگرداں تھے۔رقم کے مالک عمر نے اپنی گمشدہ رقم کے حوالے سے خبر دیکھ کر اسٹنٹ کمشنر سے رابطہ کیا جنہیں نشانیاں پوچھ کر اور اطمینان کئے جانے کے بعد گواہوں کی موجودگی میں وہ رقم دے دی گئی۔عمر کا کہنا تھا کہ ' انہوں نے وہ خبر سماء ٹی وی پر دیکھی تھی اللہ کا شکر ہے پیسے نیک بزرگ کے ہاتھ لگے اور انھوں نے رقم اے سی آفس پہنچا دی جس کے باعث انہیں ا...

امریکہ میں بے روزگاری کی شرح 50 سال کی بلند ترین سطح پر

Image
امریکہ میں تقریباً ایک عشرے کے بعد اس سال مارچ میں ملازمتوں کی فراہمی کی ریکارڈ بڑھوتی یک لخت رک گئی ہے. کرونا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ سے آجروں نے سات لاکھ ایک ہزار ملازمتیں ختم کر دیں. جس سے امریکی معیشت جمود کا شکار ہو گئی ہے۔ بے روزگاری کی شرح گزشتہ پچاس سال میں بڑھ کر چار اشاریہ چار فیصد تک پہنچ گئی ہے. اس سے پہلے بے روزگاری کی سب سے بلند شرح تین اشاریہ پانچ فیصد تھی۔ملازمتوں کے ماہانہ نقصان کے اعداد و شمار حکومت نے جاری کئے ہیں. جو کہ سن 2009 کی کساد بازاری کے بعد بدترین ہیں. یہ اس بات کا دھیما سا اشارہ ہے کہ ' آگے کیا ہونے والا ہے. گزشتہ ماہ ملازمتوں کی صورتحال اس سے بھی بدتر تھی. کیونکہ گزشتہ پندرہ روز کے دوران سب سے بڑی تعداد میں ملازمین کو فارغ کیا گیا۔ مارچ کے آخری دو ہفتوں میں تقریبا ً دس ملین امریکیوں نے بے روزگاری الاؤنس کیلئے درخواستیں دائر کی ہیں۔ اس سے پہلے اتنی بڑی تعداد میں بے روزگاری الاؤنس کیلئے درخواست گزاروں کا ریکارڈ نہیں ملتا۔ وائرس کی وجہ سے کاروباروں کی بندش ہوئی اور مجبوراً وسیع پیمانے پر برطرفیاں کی گئیں. جن میں ہوٹل ' ریستوران ' سین...