Posts

Showing posts from May 1, 2020

گوگل نے اپنے صارفین کو سنادی بڑی خوشخبری، کس سروس کو کردیا بالکل مفت؟

Image
گوگل کے اعلامیہ کے مطابق ' گوگل میٹ ویڈیو کانفرنسنگ ایپ مخصوص صارفین یکم مئی سے بالکل مفت استعمال کرنے کے مجاز ہوں گے۔ صارفین کے لیے صرف جی میل اکاؤنٹ ضروری ہوگا۔ گوگل کی میٹ ویڈیو کانفرنسنگ ایپ اس سے قبل چھ ڈالرز ماہانہ کی عوض فراہم کی جاتی تھی۔ صارفین کو گوگل کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ ' وہ ویب سائٹ، اینڈرائیڈ یا آئی اوایس اسٹور سے ایپ ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں۔ میٹ ایپ کےذریعے 100 سے زائد صارفین بیک وقت ویڈیو کانفرنس پر بات کرسکیں گے۔ پہلے مرحلے میں صارفین کو میٹ ایپلی کیشن بالکل مفت فراہم کی جائے گی۔ اس ضمن میں صارفین کو باقاعدہ ای میل کے ذریعے مطلع بھی کیا جائے گا۔ گوگل کو فیس ادا کرنے والے صارفین کے لیے یہ سروس 30 ستمبر تک بالکل مفت کردی گئی ہے۔ گوگل کی پریمیئم سروس استعمال کرنے والے صارفین بیک وقت 250 افراد کو ویڈیو کانفرنس کال میں شامل کرسکتے ہیں۔ کورونا وائرس کے بعد سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کے استعمال میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ اس کے بعد سے مختلف ویب سائٹس صارفین کے لیے روزانہ اچھی اور معیاری سروس فراہم کرنے کا اعلان کررہی ہیں اور انہیں اپنی جانب متوجہ ک...

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان، اپوزیشن غیر مطمئن

Image
پاکستان میں حکومت نے عالمی منڈیوں میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے بعد ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر کمی کا اعلان کر دیا ہے. جس کے تحت پیٹرول کی قیمت میں 15 روپے فی لیٹر کمی کر دی گئی ہے۔ عالمی منڈی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے کئی دن بعد حکومت پاکستان نے اس کمی کا فائدہ عوام کو پہنچانا شروع کیا ہے۔ اس سے قبل وزیراعظم عمران خان نے 15 روپے فی لٹر پیٹرول کی قیمت کم کی تھی اور اب ماہانہ قیمتوں میں تبدیلی کرتے ہوئے مزید 15 روپے کا ریلیف عوام کو دیا گیا ہے۔ وزارت خزانہ نے نئی قیمتوں کا باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی سے متعلق ' اگرچہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی ''اوگرا'' کی جانب سے وزارت خزانہ کو جو سمری بھجوائی گئی تھی اس میں پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 20 روپے 68 پیسے کم کرنے کی سفارش کی گئی تھی. جب کہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 33 روپے 94 پیسے اور لائٹ ڈیزل 24 روپے 57 پیسے اور مٹی کا تیل 44 روپے 7 پیسے سستا کرنے کا مشورہ دیا گیا تھا۔ تاہم ' وزارت خزانہ نے اوگرا کی سفارش کردہ رقم ...

ایل پی جی کی قیمت میں 22 روپے فی کلو اضافہ

Image
ایل پی جی کی قیمت میں 22 روپے فی کلو اضافہ کردیا گیا. اوگرا نے نوٹیفکیشن جاری کردیا. نئی قیمت کا ملک بھر میں اطلاق یکم مئی سے ہوگا۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے ایل پی جی کی قیمت میں 22 روپے فی کلو اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا. جس میں بتایا گیا کہ ' قیمتوں کا تعین مئی 2020ء کیلئے کیا گیا ہے. جس کا اطلاق آج رات 12 بجے سے پورے ملک میں یکساں طور پر ہوگا۔ اوگرا کے مطابق ' موجودہ اضافے کے بعد فی کلو ایل پی جی کے نرخ 90 روپے سے بڑھ کر 112 روپے ہوگئے، گھریلو سلینڈر 256 روپے اور کمرشل 938 روپے مہنگا ہوگیا۔ قیمت میں اضافے کے بعد گھریلو سلینڈر کے نرخ 1067 روپے سے بڑھ کر 1323 جبکہ کمرشل سلنڈر 4107 روپے سے بڑھ کر 5090 روپے کا ہوگیا۔ حکومت کی جانب سے ' آج ہی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 30 روپے فی لیٹر تک کمی کی گئی ہے، جس کے بعد پیٹرول 15 روپے جبکہ لائٹ ڈیزل 27.15 پیسے فی لیٹر سستا ہوگیا۔

یکم مئی: مزدوری کے تقدس اور وقار کی علامت ہے، عمران خان

Image
گرچہ افغانستان اور پاکستان کو مختلف اندرونی چیلنجز درپیش ہیں، دونوں ممالک کو کرونا وائرس کے بحران کو ایک قومی سلامتی کا مسئلہ سمجھ کر نمٹنے کی کوششیں کرنا ہوگی۔ اس بات پر زور دیتے ہوئے ماہرین نے ایک آن لائن مباحثے میں کہا کہ ' کوڈ 19 محض صحت عامہ کا مسئلہ نہیں. بلکہ یہ بحران دونوں ممالک میں اقتصادی اور امن و امان کے معاملات کو بگاڑ سکتا ہے۔ واشنگٹن کے مڈل ایسٹ انسٹیٹیوٹ کے زیر اہتمام اس مباحثے میں امریکی ' پاکستانی اور افغان ماہرین نے موجودہ صورتحال پر اپنی آرا کا اظہار کیا۔ گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے' انسٹیٹیوٹ کے افغانستان اور پاکستان کے ڈائریکٹر ' مارون وائن بام نے دونوں ملکوں کی صورتحال بیان کی اور کہا کہ ' کرونا وائرس کی وبا نے دونوں ممالک کو ایک ایسے وقت میں متاثر کیا ہے جو دونوں ہی کے لیے بہت اہم ہے۔ صحت عامہ کی ماہر نتاشا انور ' جو کہ آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کی لاہور کی کی لبارٹری میں ایک ماہر سائنسدان ہیں، اور افغانستان کے ماہر اور صحت کے مشیر ڈاکٹر حامد المیار نے سلائیڈ کے ذریعے کوڈ 19 کی تازہ ترین صورتحال بیان کی۔ دونوں ملکوں میں ا...

کرونا بحران افغانستان اور پاکستان کے لیے قومی سلامتی کا مسئلہ۔ ماہرین

Image
گرچہ افغانستان اور پاکستان کو مختلف اندرونی چیلنجز درپیش ہیں. دونوں ممالک کو کرونا وائرس کے بحران کو ایک قومی سلامتی کا مسئلہ سمجھ کر نمٹنے کی کوششیں کرنا ہوگی۔ اس بات پر زور دیتے ہوئے ماہرین نے ایک آن لائن مباحثے میں کہا کہ ' کوڈ 19 محض صحت عامہ کا مسئلہ نہیں. بلکہ یہ بحران دونوں ممالک میں اقتصادی اور امن و امان کے معاملات کو بگاڑ سکتا ہے۔ واشنگٹن کے مڈل ایسٹ انسٹیٹیوٹ کے زیر اہتمام اس مباحثے میں امریکی ' پاکستانی اور افغان ماہرین نے موجودہ صورتحال پر اپنی آرا کا اظہار کیا۔ گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے. انسٹیٹیوٹ کے افغانستان اور پاکستان کے ڈائریکٹر ' مارون وائن بام نے دونوں ملکوں کی صورتحال بیان کی اور کہا کہ ' کرونا وائرس کی وبا نے دونوں ممالک کو ایک ایسے وقت میں متاثر کیا ہے جو دونوں ہی کے لیے بہت اہم ہے۔ صحت عامہ کی ماہر نتاشا انور ' جو کہ آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کی لاہور کی کی لبارٹری میں ایک ماہر سائنسدان ہیں. اور افغانستان کے ماہر اور صحت کے مشیر ڈاکٹر حامد المیار نے سلائیڈ کے ذریعے کوڈ 19 کی تازہ ترین صورتحال بیان کی۔ دونوں ملکوں میں ایک م...