سندھ: کرونا سے صحتیاب ہونیوالوں کی شرح 24 فیصد ہوگئی
سندھ میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں کرونا وائرس کے 535 مزید مریض صحتیاب ہوگئے. صوبہ بھر میں وباء سے شفاء پانے والوں کی کل تعداد 3 ہزار 605 ہوگئی. جس کا تناسب کل متاثرین کے مقابلے میں 24 فیصد بنتا ہے. آج بھی 12 افراد زندگی کی بازی ہار گئے۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بدھ کو اپنے بیان میں کرونا کی تازہ ترین صورتحال سے آگاہی دیتے ہوئے کہا ' اس وباء کے 535 مزید مریضوں کو علاج کے بعد ڈسچارج کردیا گیا اور اب اگر شفایاب مریضوں کی کل تعداد دیکھی جائے تو اس سے پتہ چلتا ہے کہ بحالی کی شرح 22 فیصد سے بڑھ کر 24 فیصد ہوگئی ہے۔
تاہم انہوں نے کہا کہ ' کرونا کے نئے مریضوں میں بھی اضافے کا سلسلہ جاری ہے اور گزشتہ 24 گھنٹوں میں اس وائرس کی موجودگی کا پتہ لگانے کیلئے 5 ہزار 566 ٹیسٹ کئے گئے جس کے نتیجے میں 817 نئے کیسز سامنے آئے جو تمام مقامی ٹرانسمیشن کا نتیجہ تھے یعنی ان کی کوئی سفری ہسٹری نہیں تھی. اس طرح صوبے میں مجموعی کیسز کی تعداد 14 ہزار 916 ہوگئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ' کرونا کے شکار افراد میں اموات کا سلسلہ بھی کم نہیں ہورہا اور گزشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 12 متاثرین اپنی جان کی بازی ہار چکے ہیں جس کے بعد سندھ میں جاں بحق مریضوں کی کل تعداد 255 ہوچکی ہے۔
وزیراعلیٰ نے توجہ دلائی کہ 9 مئی سے 14 مئی کے دوران کرونا وائرس کے باعث 75 اموات رپورٹ ہوئی ہیں. جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اب اوسطاً 12 سے زائد مریض روزانہ اپنی زندگی سے ہاتھ دھو رہے ہیں جو کہ اچھی علامت نہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ' 817 نئے کیسز میں سے 567 کا تعلق کراچی سے ہے. جن میں سے 139 کا تعلق ضلع شرقی، 125 ضلع وسطی، 115 ضلع جنوبی، 102 ضلع ملیر، 52 ضلع غربی اور 34 مریض ضلع کورنگی سے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ' اس وقت مجموعی طور پر کراچی جنوبی میں 2470، شرقی میں 2324، وسطی میں 1925، ملیر میں 1508، کورنگی میں 982 اور غربی میں 1289 مریض ہیں۔
سندھ کے دیگر اضلاع کی تفصیل بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ لاڑکانہ میں 57، سکھر میں 23، خیرپور میں 22، قمبر شہدادکوٹ میں 19، گھوٹکی میں 16، سانگھڑ میں 12، حیدرآباد میں 11، جیکب آباد میں 7 جبکہ جامشورو، شہید بے نظیر آباد اور شکارپور میں 3، 3، ٹنڈو الہ یار میں ایک نیا کیس سامنے آیا۔
انہوں نے کہا کہ ' صوبے میں ایکٹیو کیسز 11 ہزار 55 ہیں جن میں سے87 فیصد یعنی 9 ہزار 651 گھروں میں آئسولیشن میں، 8 فیصد یعنی 887 قرنطینہ مراکز میں اور 5 فیصد یعنی 517 مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔ مراد علی شاہ نے مزید بتایا کہ ' اسپتالوں میں موجود مریضوں میں سے 21 فیصد یعنی 107 کی حالت تشویشناک ہے جبکہ 35 کو وینٹی لیٹرز پر رکھا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ' جن مریضوں کو گھروں میں آئسولیشن میں رکھا گیا تھا ان کی ڈاکٹرز دیکھ بھال کرتے ہیں اور ایمرجنسی کی صورت میں انہیں اسپتال منتقل کردیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ' میری حکمت عملی مریضوں کو الگ تھلگ کرکے وائرس پر قابو پانا اور معاشرتی فاصلے اور دیگر ایس او پیز کو نافذ کرکے اس کے مزید پھیلاؤ کو روکنا ہے تاہم یہ اس وقت ہی ممکن ہوگا جب عوام تعاون کریں گے اور صورتحال کو سمجھیں گے۔

Comments
Post a Comment