ایرانی حکومت سے اختلاف کرنے والی 14 خواتین کو سزا
ایرانی عدالت نے حکومت کے نام کھلا خط لکھنے والی چودہ خواتین کو سزا سنائی ہے۔ ان میں ایک خاتون شہلا جہاں بین بھی شامل ہیں جن کو فوری سرجری کی ضرورت ہے۔ مگر جیل کے حکام نے انہیں دو ماہ کی مہلت دی ہے اور اس کے بعد انہیں اپنی سزا جیل میں کاٹنی ہو گی۔
ایران میں مقیم ایک ذریعے نے وائس آف امریکہ کی فارسی سروس کو بتایا کہ ' منحرف خاتون شہلا جہاں بین پچھلے ہفتے تہران کے ایوین جیل خانے گئی تھیں اور وہاں انہوں نے جیل کے حکام کے سامنے ایرانی عدلیہ کے قانونی میٖڈیکل افسر کا ایک خط پیش کیا. جس میں لکھا تھا کہ کمر کی تکلیف کے علاج کے سلسلے میں سرجری درکار ہے۔
ذریعے کے مطابق ' جیل کے حکام نے کہا کہ ' وہ سرجری کے لیے صرف دو ماہ کی مہلت دیں گے اور اس کے بعد انہیں جیل میں اپنی ساڑھے تین سال قید کی سزا بھگتنی ہو گی۔
پچھلے سال نو اگست کو جہاں بین ان چودہ خواتین میں شامل تھیں. جنہوں نے حکام کے نام ایک کھلا خط لکھا تھا۔ اس خط میں دیگر باتوں کے علاوہ خامنائی کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اکیس اگست کو انہیں حراست میں لے لیا گیا اور ان سمیت چودہ خواتین پر مملکت کے خلاف پراپیگنڈا کرنے اور قومی سلامتی کے خلاف جمع ہونے کا الزام عائد کیا گیا۔ نومبر میں یہ ضمانت پر رہا ہوگئیں اور فروری میں ایرانی عدالت نے انہیں دونوں جرائم کا مرتکب قرار دے کر سزا سنائی۔ جہاں بین نے صحت جرم سے انکار کیا تھا۔
ذریعے نے بتایا کہ ' سرجری کے بعد صحت یاب ہونے میں انہیں دو ماہ سے زیادہ کا عرصہ درکار ہے۔ تاہم ' ابھی یہ معلوم نہیں کہ وہ ان حالات میں سرجری کروائیں گی یا نہیں۔
جہاں بین کے شوہر عباس ویحدیانشاہ رودی شہری آزادی کے سرگرم کارکن ہیں اور انہیں بھی مشہد میں اٹھارہ اگست کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔
ایک اور ذریعے نے وی اے او فارسی کو بتایا کہ ' اس جوڑے کے ایک بچے نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ جیل میں کرونا وائرس پھیلا ہوا ہے اور اس بات کا امکان ہے کہ ' ان کے والدین اس مرض کا شکار ہو جائیں۔
فروری کے آخر تک ایرانی حکام نےکرونا وائرس کی وبا کے باعث ہزاروں قیدیوں کو عارضی طور پر رہا کیا گیا ہے۔ تاہم' ان میں وہ قیدی شامل نہیں ہیں جنہیں حکومت سے اختلاف کی بنا پر سزا ہوئی ہے۔

Comments
Post a Comment