کورونا وائرس، قدرتی وباء یا پھر سازش
چین کے شہر ووہان سے نمودار ہونے والا '' کورونا وائرس'' ایک ایس وائرس س نے نہ صرف چین کے شہر ووہان بلکہ کرہ عرضی کو اپنے پیٹے میں لے لیا ہے. اور شیر کے پنجوں کی مانند جکڑ لیا ہے۔
طین کے سائنسدانوں نے اسے وائرس کے ایک خاندان کورونا وائرس سے جوڑا ہے جس میں 2 ہزار کی دہانی کا خطرناک وائرس بھی شال ہے. سائنسدان اب تک اس وائرس کو صحیح طرح سمجھ نہیں سکا ہے. جبکہ حکے نے اب اس وائرس پر تحقیق کرنا شروع کی ہے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین ہارون نے انکشاف کیا ہے کہ ' کورونا وائرس ایک سوچیسجھی سازش ہے. یہ ایک ایسا وائرس ہے جسے لیبارٹری میں تیار کیا گیا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ' کورونا وائرس کوئی قدرتی وباؑ نہیں ہے بلکہ انسانی طاقت سے تیار کردہ وائرس ہے جس کا بنیادی مقصد لوگوں میں خوف و حراس پیدا کرنا اور آبادی کو کم کرنا ہے۔
کورونا وائرس کی ویکسین 2019 یں بننا شروع ہوی تھی اور اسرائیل کی جانب سے اعلان کیا گیا تھا کہ ' جو الک ہیں مانتے ہیں صرف انھیں ہی ہم ویکسین مہیا کرے گے۔
پاکستان کے سابق سفیر نے کہا ہے کہ ' امریکہ ' چین کی ترقی سے کافی عرصے سے گھبراہٹ کا شکار تھا جس کے باعث امریکہ نے اسرائیل کے ساتھ مل کر یہ تصویر بنائی گئی ہے۔
اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ ' اس وائرس کا شاکار آج امریکہ بھی ہے اور وہاں اموات بھی واقع ہورہی ہیں تو کیا یہ سب صرف الگ الگ نظریات ہیں یا پھر واقع کسی سازش کا حصہ ہے۔
کیا واقعی اسرائیل اس سازش یں حصے دار ہے یا پھر یہ کورونا وائرس حقیقی طور پر ایک قدرتی وبا ہے۔

Comments
Post a Comment