اینٹی وائرل دوا سے کرونا وائرس کے علاج میں کامیابی

امریکہ کی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کرونا وائرس کے لیے تجرباتی دوا ریمڈیسیوئیر کے ہنگامی صورت میں استعمال کی منظوری دینے والی ہے جس سے امید ہے کہ ' بہت سے مریضوں کی جان بچائی جاسکے گی۔

حکام کے مطابق ' اس دوا کے مریضوں پر تجربات سے مثبت نتائج برآمد ہوئے ہیں۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نیشنل ایجنسی آف الرجی اینڈ انفیکشس ڈیزز کے سربراہ ڈاکٹر فاؤچی اس دوا کے بارے میں اچھی امیدوں کا اظہار کیا ہے۔

ڈاکٹر فاؤچی نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ' اگرچہ ان کے ادارے نے ابھی اس دوا کا باقاعدہ جائزہ لینا ہے۔ لیکن ' انھوں نے توقع ظاہر کی کہ یہ مریضوں کی جلد صحت یابی میں کردار ادا کرسکتی ہے۔

'ڈاکٹر فاؤچی نے بتایا کہ ' وفاقی تجربات سے معلوم ہوا کہ ''ریمڈیسیوئیر'' کرونا وائرس سے صحت یاب ہونے کا عرصہ ایک تہائی کم کرسکتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ' اگرچہ 31 فیصد کا تناسب 100 فیصد کے مقابلے میں خاصا کم ہے لیکن یہ ثابت ہونا بہت زیادہ اہم ہے کہ ' کوئی دوا اس وائرس کو روک سکتی ہے۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ 'یہ ایک اچھی علامت ہے۔ یقینی طور پر مثبت۔ یہ ایک بہت اچھا واقعہ ہے''۔ اس سے امریکہ کی معیشت کو بحال کرنے کا راستہ کھلا ہے۔

ریمڈیسیوئیر بنانے والی کمپنی، گلیئیڈ سائنسز نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ' وہ ڈاکٹر فاؤچی کے انسٹی ٹیوٹ میں اس تحقیق سے سامنے آںے والے مثبت نتائج سے آگاہ ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ تجربے نے ابتدائی نتائج حاصل کیے ہیں اور ڈاکٹر فاؤچی کا ادارہ جلد اس بارے میں تفصیل بیان کرے گا۔

کمپنی کے ایک نمائندے نے واشنگٹن پوسٹ کو ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ' وبا کے آغاز سے ہم انتظامیہ، حکام اور عوام کو شفاف اور بروقت معلومات سے مطلع کررہے ہیں۔ اس کے مطابق، ریمڈیسیوئیر ابھی تک امریکہ یا دنیا میں کہیں بھی علاج کے لیے منظور شدہ نہیں اور اس کے کرونا وائرس کے لیے محفوظ یا موثر ہونے کی تصدیق نہیں ہوئی۔

کمپنی کے ترجمان کے مطابق ' وہ کوئی قیاس آرائی نہیں کرنا چاہتے کہ وفاقی حکومت اس بارے میں کیا فیصلہ کرنے والی ہے۔

گلیئیڈ سائنسز نے ریمڈیسیوئیر کو ایبولا وائرس کے علاج کے لیے بنایا گیا تھا۔ لیکن افریقہ میں اس کے کلینکل تجربات کے نتائج حوصلہ شکن تھے۔

اس سے پہلے چین میں ہوئی ایک تحقیق لانسیٹ میں شائع ہوئی تھی جس میں شدید بیمار افراد کے لیے اس دوا کے مفید ہونے پر سوال اٹھائے گئے تھے۔ لیکن دیگر مریضوں کے لیے فائدہ مند ہونے کے امکان کو رد نہیں کیا گیا تھا۔ یہ تحقیق ادھوری تھی. کیونکہ اس میں زیادہ مریض شامل نہیں ہوئے تھے۔

نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن میں شائع ہونے والی دو رپورٹوں کے مطابق ' اس دوا کو کرونا وائرس کے چند مریضوں پر آزمایا گیا اور وہ جلد صحت یاب ہوگئے، جس کے بعد اس کے بارے میں امیدیں پیدا ہوئیں۔ لیکن بعد میں ان ڈاکٹروں نے کہا کہ نتائج غیر یقینی رہے تھے۔


Comments

Popular posts from this blog

ڈیم کا پیسہ کورونا ریلیف فنڈ کے لئے استعمال نہیں ہوگا، وزیراعظم

ڈینیئل پرل کیس:سپریم کورٹ، حکومت سندھ کی درخواست قبول

ارکا ن اسمبلی،2ایس پی،2 ڈپٹی سیکر ٹری ،9ڈاکٹر کرونا کاشکا ر،سندھ ،کے پی کے کے ہسپتا لو ں میں جگہ ختم

خاتون کی مذاق میں چھینک ،امریکہ میں سپر سٹور نے 50 لاکھ کا سامان ضائع کردیا

ستائیس مئی کو بھارت میں پھنسے 176 پاکستانی وطن واپس پہنچیں گے