چینی کا بحران، جہانگیرترین، خسروبختیار فائدہ اٹھانے والوں میں سرفہرست
چینی اور آٹا بحران کا سب سے زیادہ فائدہ حکمران جماعت کے جہانگیر ترین نے اٹھایا. وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ' مونس الٰہی اور خسرو بختیار کے بھائی و دیگر سیاسی شخصیات بھی ملوث ہیں۔
گزشتہ دنوں ملک میں پیدا ہونیوالے آٹے اور چینی کے بحران سے متعلق فیڈرل انویسٹی گشن ایجنسی (ایف آئی اے) کی تحقیقاتی رپورٹ منظرعام پر آگئی، جس میں حکومتی شخصیات سمیت کئی سیاسی خاندانوں کے نام شامل ہیں۔
تحقیقاتی رپورٹ میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی نااہلی کو آٹے کے بحران کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ' ملک میں چینی بحران کا سب سے زیادہ فائدہ حکمران جماعت کے اہم رہنماء جہانگیر ترین نے اٹھایا. دوسرے نمبر پر وفاقی وزیر خسرو بختیار کے بھائی اور تیسرے نمبر پر پی ٹی آئی کی اتحادی جماعت مسلم لیگ ق کے مونس الٰہی کی کمپنیوں نے فائدہ اٹھایا۔
ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے واجد ضیاء کی تیار کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جہانگیر ترین نے سبسڈی کی مدد میں 56 کروڑ روپے کا فائدہ اٹھایا. وفاقی وزیر خسرو بختیار کے رشتہ دار نے آٹے اور چینی بحران سے 45 کروڑ روپے کمائے۔
چینی بحران پر تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ 32 صفحات پر مشتمل ہے. رپورٹ منظر عام پر لانے سے قبل وزیراعظم عمران خان نے اس کا خود جائزہ لیا۔
رپورٹ کے مطابق مونس الٰہی اور چوہدری منیر رحیمیار خان ملز، اتحاد ملز، ٹو اسٹار انڈسٹری گروپ میں حصہ دار ہیں، مسلم لیگ ن کے سابق ایم پی اے غلام دستگیر لک کی ملز کو 14 کروڑ کا فائدہ پہنچا۔
رپورٹ کے مطابق بحران سے چینی کی برآمد سے ملک میں قیمتوں میں اضافہ ہوا چینی برآمد کرنے کا فیصلہ درست نہیں تھا. چینی برآمد کرنے والوں نے دو طرح سے پیسے بنائے سبسڈی کی مد میں رقم بھی وصول کی اور قیمت بڑھنے کا بھی فائدہ اٹھایا. شوگر ایڈوائزری بورڈ وقت پر فیصلے کرنے میں ناکام رہا. دسمبر 2018ء سے جون 2019ء تک چینی کی قیمت میں 16 روپے فی کلو اضافہ ہوا حالانکہ اس عرصہ میں کوئی نیا ٹیکس بھی نہیں لگایا گیا تھا۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ' چینی کا موجودہ اسٹاک اور ضرورت تقریباً برابر ہے، تھوڑا سا فرق ذخیرہ اندوزوں کو قیمتیں بڑھانے کا موقع فراہم کرے گا، حکومت اس معمولی فرق کو بھی ختم کرنے کیلئے چینی درآمد کرنے کی اجازت دے۔
ملک میں گندم کے بحران پر تحقیقاتی رپورٹ بھی وزیراعظم کو پیش کردی گئی، جس کے مطابق گندم بحران کی بڑی وجہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی منصوبہ بندی نہ ہونا ہے، محکمہ خوراک پنجاب نے 20 سے 22 دن تاخیر سے گندم جمع کرنا شروع کی. پنجاب فوڈ ڈیپارٹمنٹ فلور ملز کو کنٹرول کرنے میں ناکام ہوا. محکمہ خوراک پنجاب طلب اور رسد کیلئے طریقۂ کار بنانے میں بھی ناکام رہا۔
رپورٹ میں پنجاب میں گندم کا ہدف پورا نہ کرنے کی ذمہ داری سابق سیکریٹری خوراک نسیم صادق، سابق ڈائریکٹر خوراک پنجاب ظفر اقبال پر عائد کی گئی ہے جبکہ وزیر خوراک پنجاب سمیع اللہ چوہدری کو بروقت اقدامات نہ کرنے کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔
تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق س.، جس نے گندم حاصل کرنے کی سمری پر کوئی فیصلہ ہی نہیں کیا. خیبرپختونخوا میں گندم خریداری ہدف پورے نہ کرنے کے ذمہ دار وزیر قلندر لودھی ہیں، سیکریٹری خوراک کے پی اکبر خان اور ڈائریکٹر خوراک سادات حسین بھی ذمہ دار قرار دیئے گئے ہیں۔
دوسری جانب مونس الٰہی نے تحقیقاتی رپورٹ کا خیر مقدم کرتے ہوئے وضاحت کی ہے کہ ان کا رحیم خار شوگر مل کی انتظامیہ سے کوئی تعلق ہیں، صرف بالواسطہ شیئرز ہیں، اس شوگر مل کا قومی برآمدات میں 3.14 فیصد حصہ ہے. امید ہے لوگ حقائق کو ذمہ داری سے پیش کرینگے۔
ہمایوں اختر کا کہنا ہے کہ' حکومت نے گنے کی قیمت 190 روپے من طے کی تھی، ساری دنیا کی معیشتوں کا برا حال ہے. ہماری کسی شوگر مل کا اس رپورٹ میں نام نہیں۔
مزید جانیے : جہانگیرترین، خسروبختیار چینی آٹےکے بحران کےذمہ دارہیں. ن لیگ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ' پنجاب حکومت نے کس کے دباؤ میں آکر شوگر ملز کو سبسڈی دی اور اقتصادی رابطہ کمیٹی نے ایکسپورٹ کی اجازت کیوں دی؟۔ جنوری اور فروری 2020ء میں ملک بھر میں گندم کے بحران کے باعث آٹے کی قیمت 70 روپے فی کلو تک جا پہنچی تھی۔
اقتصادی رابطہ کمیٹی نے بحران پر قابو پانے کیلئے 3 لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کی منظوری دی تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ درآمد شدہ گندم آتے آتے مقامی سطح پر گندم کی فصل تیار ہوجائے گی اور پھر گندم کی زیادتی کی وجہ سے ایک نیا مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے بھی آٹے کے بحران اور قیمتوں میں اضافے کا نوٹس لیتے ہوئے گندم ذخیرہ کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی ہدایت کی تھی۔
اس حوالے سے وزیراعظم نے بحران کی وجوہات کا پتہ لگانے کے لیے تحقیقاتی کمیٹی قائم کی اور وزراء کو بحران کی وجوہات جاننے کا ٹاسک سونپا تھا۔

Comments
Post a Comment