مکمل لاک ڈاؤن کر لیں تو بھی کورونا نہیں رکے گا، وزیراعظم
وزیراعظم عمران خان نے عوام سے اپیل کی ہے کہ ' کورونا وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے۔ اس صورتحال میں ہم سب کو یکجا ہونے کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ کی راہ میں دینے والا کبھی خسارے میں نہیں رہتا۔ جو وقت آگے آرہا ہے ہم سب کو یکجا ہونا ہوگا۔ یہ ایسا وائرس ہے جو بڑی تیزی سے پھیلتا ہے۔
احساس ٹیلی تھون کی خصوصی نشریات سے خطاب اور مختلف سوالات کے جواب دیتے ہوئے وزیراعظم نے سمندر پار پاکستانیوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ' انہوں نے ہمیشہ مشکل گھڑی میں ملک کی مدد کی۔ ہم مستحق لوگوں کیلئے پیسے اکٹھے کر رہے ہیں۔ کچھ نہیں کہہ سکتے ' اگر مکمل لاک ڈاؤن بھی کردیں تو کورونا ختم ہو جائے گا۔ اب ہمیں اسمارٹ لاک ڈاؤن کی طرف جانا پڑے گا۔ اس کی وجہ سے ہر جگہ پر لوگ متاثر ہیں۔ اب آہستہ آہستہ کاروبار شروع ہوگا۔ اب تو سمارٹ لاک ڈاؤن مغرب کے اندر بھی شروع ہو گیا ہے۔
ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ' احساس پروگرام جیسا شفاف کوئی بھی پروگرام نہیں ہوا۔ اب تک 13 کروڑ لوگوں نے اس پروگرام میں اپلائی کیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ' احساس پروگرام میں سب سے زیادہ پیسہ سندھ میں دیا گیا۔ احساس پروگرام کی پوری تیاری کی گئی. 12 ہزار روپے مکمل تصدیق کے بعد دیئے جاتے ہیں۔ اس پروگرام میں کوئی سیاسی مداخلت نہیں ہے۔ پاکستان میں 75 فیصد مزدور رجسٹرڈ ہی نہیں. ان تک پہنچنا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ ' کچی بستیوں میں حالات بہت زیادہ برے ہیں۔ سندھ حکومت نے ایک دم کرفیو ٹائپ لاک ڈاؤن کردیا حالانکہ میں پہلے دن سے کہہ رہا تھا کہ ' ہمیں لاک ڈاؤن بیلنس کرنا ہے۔ پاکستان کے حالات دنیا سے مختلف ہیں۔ پورے لاک ڈاؤن سے دہاڑی دار متاثر ہوں گے۔
عمران خان نے کہا کہ ' ہمیں پتہ ہے جو مرضی کرلیں. لوگوں نے رمضان المبارک میں نماز کیلئے مساجد میں جانا ہے۔ پورا لاک ڈاؤن بھی کردیں تو یہ کورونا وائرس رک نہیں سکتا۔ ہمیں اس کے ساتھ رہنا پڑے گا. اس نے پھیلنا ہے۔ جب فیصلے ایلیٹ کلاس کیلئے کریں گے تو غلطیاں کریں گے۔ یہ ایسا وائرس ہے جوکسی میں فرق نہیں کرے گا۔ ستر سال سے ایلیٹ کلاس کیلئے فیصلے ہوتے ہیں. نچلے طبقے کی فکر نہیں کی جاتی۔
انہوں نے بتایا کہ ' علمائے کرام نے ہمیں گارنٹی دی ہے. ان کا مطالبہ تھا کہ ' کنسٹریکشن انڈسٹری کو ایس اوپیز دیئے جا سکتے ہیں تو مساجد کو کیوں نہیں. تاہم اگر مساجد میں 20 نکات کی خلاف ورزی ہوئی تو پھر ان کو بند کر دیں گے۔
وزیراعظم نے کہا کہ ' چین نے ووہان شہر میں سب کو گھروں میں کھانا پہنچایا تھا لیکن ہمارے اتنے وسائل نہیں ہیں۔ مجھے خوف ہے کہ ' اگر لاک ڈاؤن کردیا تو لوگ بھوک سے نہ مر جائیں۔ مجھے شروع دن سے یہی خوف ہے۔ شروع دن سے ہی لاک ڈاؤن کے خلاف تھا۔ چھابڑی والے کو بند کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ کنسٹریکشن انڈسٹری کو بڑا زبردست پیکج دیا. اس سے لوگوں کو روزگار ملے گا۔ اگر تعمیراتی شعبہ چل پڑا تو چالیس صعنتیں چل پڑیں گی۔
انہوں نے کہا کہ ' اللہ کا شکر ہے کہ اب تک پاکستان میں کیسز کم ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ 15 مئی تک مسئلہ نہیں ہوگا۔ اگر ہم اسی طرح احتیاط کریں گے تو زیادہ کیسز نہیں ہوں گے تاہم مئی کے آخر میں ہمارا مشکل وقت ہوگا۔ لوگ بھوکے ہیں ان کا احساس ہے۔ کچی آبادیوں میں بہت برے حالات ہیں۔ غریب خواتین کو جب 12 ہزار ملتے ہیں تو بڑی خوشی ہوتی ہے۔
لاک ڈاؤن کے حوالے سے ڈاکٹروں کے تحفظات پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ' ان کی باتیں میں سمجھتا ہوں۔ کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں قوم کو ذمہ داری ادا کرنا ہوگی۔ جب لوگ مساجد میں جائیں گے تو یہ رسک ہے لیکن حکومت ڈنڈے مار کر سب کچھ نہیں کرا سکتی۔ قوم کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
ملک کی معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ' ہمارا بہت بڑا مسئلہ پاور سیکٹر ہے۔ سب سے بڑا عذاب مہنگی بجلی کے معاہدے ہیں۔ میری کوشش ہے کہ شرح سود اور کم ہو جائے۔ اس کے علاوہ بجلی کی قمتیں کم ہوں گی تو لوگوں کو فائدہ ہوگا۔
احساس پروگرام کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ' یقین دلاتا ہوں کہ شفاف انداز میں لوگوں کو پیسے مل رہے ہیں۔ ایف آئی اے اور آئی ایس آئی سمیت تمام ادارے شفافیت کو یقینی بنانے کیلئے ساتھ دے رہے ہیں۔
احساس ٹیلی تھون کی لائیو نشریات میں پاکستان سمیت پوری دنیا سے لوگ شریک ہوئے اور دل کھول کر عطیات دیئے۔ نشریات کے اختتام پر معروف مذہبی اسکالر مولانا طارق جمیل نے عوام سے اس وباء سے احتیاط برتنے اور خدا کے حضور توبہ کرنے کی تلقین کی۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑا کر اس عذاب سے چھٹکارے کی بھی خصوصی دعا کی۔

Comments
Post a Comment