کرونا وائرس کے خلاف جنگ کا ایک نیا محاذ

براڈ انسٹی ٹیوٹ اور ہارورڈ یونی ورسٹی کے 34 سالہ مائیکل ویلز نے کرونا وائرس کی عالمگیر وبا کے خلاف کے اکیلے جنگ لڑنے کی بجائے بہت سے سائنس دانوں کا گروپ بنانے کا منصوبہ بنایا ہے۔ ان کا موضوع وائرس بیالوجی ہے۔ ان کے خیال میں اس جانب کم توجہ دی گئی ہے۔
انہوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے ایسے تمام سائنس دانوں کو دعوت دی کہ ' وہ ان کے ساتھ مل کر اپنے علم اور تجربے اور مہم کو مل جل کر یک جا کریں۔ انہوں گھر بیٹھے ماہرین کو شریک کرنا شروع کیا اور اب ان کے گروپ کے ارکان کی تعداد سات ہزار کے قریب ہے۔
مائیکل ویلز کا کہنا ہے کہ ' میں چاہتا ہوں کہ اس ملک میں ہر ہیلتھ ورکر کے سامنے ایسا ڈیٹا بیس ہو. جس کی روشنی میں وہ یہ طے کر سکے کہ کسی مخصوص صورت حال میں اسے کیا کرنا ہے. ان کا یہ بھی کہنا کہ ' بعض ادارے ان کے جمع شدہ ڈیٹا سے استفادہ بھی کر رہے ہیں۔
ہیلتھ کیر ورکرز جو مریضوں کا علاج اور دیکھ بھال کر رہے ہیں. وہ اپنی جان جوکھوں میں ڈال رہے ہیں۔ لیکن ویلیز جیسے سائنس دان جو فرنٹ لائن پر نہیں ہیں. وہ بھی اس جنگ میں اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں۔


Comments

Popular posts from this blog

ڈیم کا پیسہ کورونا ریلیف فنڈ کے لئے استعمال نہیں ہوگا، وزیراعظم

ڈینیئل پرل کیس:سپریم کورٹ، حکومت سندھ کی درخواست قبول

ارکا ن اسمبلی،2ایس پی،2 ڈپٹی سیکر ٹری ،9ڈاکٹر کرونا کاشکا ر،سندھ ،کے پی کے کے ہسپتا لو ں میں جگہ ختم

خاتون کی مذاق میں چھینک ،امریکہ میں سپر سٹور نے 50 لاکھ کا سامان ضائع کردیا

ستائیس مئی کو بھارت میں پھنسے 176 پاکستانی وطن واپس پہنچیں گے