Posts

پاکستان میں 54 صحافی کرونا سے متاثر

Image
پاکستان میں کم از کم 54 صحافی اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران کرونا وائرس سے متاثر ہوچکے ہیں۔ کے مطابق ' پیر کو فریڈم نیٹ ورک رائٹس گروپ کی جانب سے کرونا سے متاثرہ صحافیوں کے اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے کہا گیا کہ ' اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ میڈیا سے منسلک افراد اس وائرس سے بچاؤ کی تدابیر پر ٹھیک سے عمل پیرا نہیں ہورہے۔ کوئٹہ کے ایک صحافی جو سب سے پہلے کرونا وائرس سے متاثر ہوئے تھے کا کہنا ہے کہ ' ایک روز جب وہ دفتر میں تھے تو انہیں بخار کے ساتھ چکر آرہے تھے پھر جب وہ اپنا کام مکمل کرکے گھر پہنچے تو ان کا بخار تیز اور جسم میں شدید درد ہونے لگا. جس کے باعث ان کیلئے کھڑا ہونا تک ممکن نہیں رہا تھا۔ ان کے علاوہ ان کے دفتر کے مزید 6 افراد بھی کرونا وائرس سے متاثر ہوئے تھے۔ اسی طرح کی صورتحال ملک کے دیگر حصوں میں واقع میڈیا اداروں میں بھی پیش آئی جہاں اسٹاف ایک دوسرے سے خاصے قریب رہتے ہوئے کام کرتے ہیں۔ میڈیا کے اداروں نے صحافیوں کیلئے اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران سماجی فاصلے اور بچاؤ کے حوالے سے اپنے اپنے طور پر گائیڈ لائنز جاری کی ہیں لیکن ایسا لگتا ہے کہ فیلڈ می...

سندھ میں کاروبار کھولنے کے اوقات میں تبدیلی

Image
سندھ حکومت نے صوبہ بھر میں کاروبار کھولنے کے اوقات تبدیل کردیئے. اب دکانیں صبح 5 سے شام 5 بجے تک کے بجائے صبح 6 بجے سے شام 4 بجے تک کھلیں گی۔ 'محکمہ داخلہ سندھ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق تاجروں کو پہلے صبح 5 بجے سے شام 5 بجے تک کاروبار کھولنے کی اجازت دی گئی تاہم یہ اوقات کار تبدیل کردیئے گئے ہیں. اب تاجر صبح 6 بجے سے شام 4 بجے تک دکانیں کھول سکتے ہیں۔ نوٹیفکیشن کے مطابق ' عوام کی نقل و حرکت پر شام 5 بجے سے صبح 6 بجے تک پابندی ہوگی. جو پہلے شام 5 بجے سے صبح 8 بجے تک تھی. جبکہ کاروبار ہفتے میں 4 دن پیر تا جمعرات کھولنے کی اجازت ہوگی. جمعہ ' ہفتہ اور اتوار کو مکمل لاک ڈاؤن رہے گا۔ قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے ملک بھر میں 9 مئی سے جزوی لاک ڈاؤن مرحلہ وار ختم کرنے کا اعلان کیا تھا. جس کے بعد صوبہ سندھ نے بھی 11 مئی سے چھوٹی دکانیں اور کاروبار صبح 5 سے شام 5 بجے تک کھولنے کی اجازت دی تھی۔ اس سے قبل ترجمان سندھ حکومت مرتضیٰ وہاب نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ ' سندھ حکومت کو کرونا وائرس کی روک تھام کیلئے عوام کا بھرپور تعاون حاصل رہا....

شرح نمو منفی ڈیڑھ فیصد تک جانے کا خدشہ ہے، عبدالحفیظ شیخ

Image
مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے ملکی شرح نمو منفی 1.5 فیصد تک رہنے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ عبدالحفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ ' کرونا کی وباء سے پہلے ملکی شرح نمو کا تخمینہ 3 فیصد کے لگ بھگ تھا تاہم اب یہ شرح منفی 1.5 فیصد تک ہو سکتی ہے۔ انہوں نے  کہا کہ ' قرضوں پر ریلیف سے متعلق جی 20 ممالک کا رویہ زیادہ اُمید افزاء نہیں البتہ چین ' سعودیہ اور متحدہ عرب امارات سمیت دوست ممالک  کے ایک ارب 80 کروڑ ڈالر کی مالیت کے قرضے دسمبر 2020ء تک ری شیڈول ہونے کے مراحل میں ہیں۔ مشیر خزانہ نے قرضوں کا مزید بوجھ اٹھانے سے پہلے قرضوں کی مقررہ قانونی حد پیش نظر رکھنے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ' مستقبل میں زیادہ تر نئے قرضے پرانے قرضوں کی واپسی کیلئے ہی ہوں گے۔ دوسری جانب اقتصادی امور ڈویژن نے کہا ہے کہ ' جی 20 ممالک کے ساتھ قرضوں کی ری شیڈولنگ کا طریقۂ کار جلد طے کرلیا جائے گا۔

کرونا کی وبا میں بچے شدید بیمار ہو رہے ہیں

Image
کرونا کی وبا کے دوران ابتدا میں یہ کہا جا رہا تھا کہ ' بچے اس وائرس سے محفوظ ہیں۔ زیادہ خطرہ معمر لوگوں کو ہے اور ان میں بھی پچاس سے ستر برس کے لوگوں کو۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اگرچہ اس وبا کا زور ابھی ٹوٹا نہیں تھا کہ اچانک بچے بہت بیمار ہو کر ہسپتال پہنچنا شروع ہو گئے۔ وہاں اس بارے میں تحقیق کی جا رہی ہے کہ ' آیا بچے کووڈ 19 کا شکار ہو رہے ہیں؟ اب ان ہی علامات کے ساتھ بچے نیویارک کے اسپتالوں میں بھی لائے جا رہے ہیں۔ گذشتہ ہفتے کے دوران 85 بچے بیمار ہو کر اسپتال پہنچے اور ان میں سے تین جانبر نہ ہو سکے۔ طبی ماہرین نے فوراً اس بات کی تحقیق شروع کر دی ہے کہ آیا ان بچوں کی یہ حالت کرونا وائرس کی وجہ سے ہے۔ ڈاکٹر حفیظ رحمان ' نیویارک کی ہافسٹرا یونیورسٹی کے میڈیکل سکول میں بچوں کے امراض کے شعبے کے اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔ کئی ایوارڈز لے چکے ہیں. جن میں مارٹن لوتھر کنگ ایوارڈ بھی شامل ہے۔ وہ کہتے ہیں یہ بڑی تشویش کی بات ہے کہ ' بچے اتنے بیمار ہو کر اسپتال پہنچ رہے ہیں لیکن ڈاکٹروں کی پوری کوشش ہے کہ ان کی اس حالت کا صحیح اندازہ لگا کر درست تشخیص کریں تاکہ ا...
Image
 امریکی کمپنی ٹیسلا کے بانی ایلون مسک نے دعویٰ کیا ہے کہ ' وہ ایسی ٹیکنالوجی پر کام کر رہے ہیں جو اگلے پانچ سال میں انسانی زبانوں کو ختم کرنے کا باعث بن سکتی ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ' الیون مسک نے یہ پیش گوئی پوڈ کاسٹ '' دی جو روگن ایکس پیئرنس '' میں نیورو ٹیکنالوجی کی اپنی فرم '' نیورا لنک '' کے بارے میں گفتگو کے دوران کی۔ مسک پرامید ہیں کہ ' ان کی کمپنی نیورا لنک چپ کو اگلے سال کے دوران انسانی دماغ سے جوڑنے کی صلاحیت حاصل کر لے گی۔ بیڑی پر چلنے والی یہ چپ انسانی کھوپڑی میں لگائی جائے گی اور اس کے الیکڑوڈز انسانی دماغ میں داخل کیے جائیں گے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ' یہ چپ دماغ میں کہیں بھی کام کر سکتی ہے اور نظر کی کمزوری پر بھی قابو پا سکتی ہے جبکہ دماغ کے ساتھ پیش آنے والے کسی بھی مسئلے کو حل کرنے کی صلاحیت بھی رکھے گی۔ ان  کا کہنا تھا کہ ' لوگوں کو بولنے کی ضرورت نہیں رہے گی البتہ جذبات کی ترجمانی کے لیے شاید ان کا استعمال جاری رہے۔

سندھ میں دکانيں کھولنےکيلئےايس اوپیز جاری،محکمہ داخلہ

Image
محکمہ داخلہ سندھ نےدکانيں کھولنے کيلئے باقاعدہ ايس او پی جاری کردئیے ہیں۔ کاروبارکےاوقات صبح8سےشام4بجےتک ہوں گے۔ 'محکمہ داخلہ سندھ نے ہدایت کی ہے کہ چھوٹےدکانداروں،تاجروں،ريٹيلرز،شورومز،کسٹمرسروسز اپنے تمام اسٹاف کوکرونا کی آگاہی،ماسک اوردستانےفراہم کريں۔ محکمہ داخلہ نے کہا ہے کہ ' کوئی بھی خریدار بغیر ماسک لگائے نہیں آئے گا. کام کرنيوالوں کیلئے ہاتھ دھونےاورسینيٹائزرکی سہولیات موجود ہوگی۔اس کے علاوہ بخار، کھانسی والے افراد کو اجازت نہیں ہوگی. بزرگ افراد کو کہا جائے گا کہ ' وہ آن لائن ڈیلیوری لیں۔ محکمہ داخلہ سندھ نے یہ بھی کہا کہ ' ملازمین کے علاج کا خرچہ مالک برداشت کرے گا. ایس او پی کو فالو کرنے کيلئے انڈر ٹیکنگ جمع کرانا ہوگی۔ واضح رہے کہ ' وزيراعلیٰ سندھ مرادعلی شاہ نےواضح کرديا ہے کہ ' تاجروں پراب بڑی ذمہ داری عائد ہوگئی ہے. ايس اوپيزپرعملدرآمد يقينی نہ بنايا گيا تو کروناکی وبا پھيلنےميں مزيد شدت آسکتی ہے۔

اقوام متحدہ کی اپیل کے باوجود لیبیا میں جنگ جاری

Image
 لیبیا میں ایک بار پھر لڑائی شروع ہو گئی ہے۔ طرابلس کا بڑا سویلین اور فوجی ہوائی اڈہ مشرقی علاقے کے کمانڈر جنرل خلیفہ ہفتار کی وفادار فوجوں کے حملے کا ہدف ہے۔ اور ہفتے کے روز ہونے والے حملے میں ہوائی اڈے کو سخت نقصان پہنچا ہے۔ وائس آف امریکہ کے نامہ نگار ایڈورڈ یرامین کے مطابق ' حالیہ دنوں میں ہفتار کی وفادار فوجوں اور طرابلس میں قائم فیاض علی سراج کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی افواج نے ایک دوسرے کے فوجی اڈوں پر حملے کئے ہیں اور دونوں فریق اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی جانب سے کرونا وائرس کے سبب جنگ بندی کی اپیلوں کو نظر انداز کر رہے ہیں۔ ممتاز تجزیہ کار اور فلوریڈا یونیورسٹی کے پروفیسر عظمت رسول کا جو آج کل ابوظہبی میں ایک منصوبے ہر کام کر رہے ہیں. کہنا ہے کہ ' لیبیا اپنی تیل کی دولت اور جغرافیائی لوکیشن کے سبب بڑی طاقتوں کے لیے بہت اہمیت رکھتا ہے اور یہ طاقتیں وہاں اپنے اپنے مفادات کا کھیل کھیل رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ' ویسے بھی جب کبھی کسی ملک میں مطلق العنان حکومتیں ختم ہوتی ہیں تو یہ ہی صورت حال بنتی ہے اور مسائل کے حل ہونے میں بڑا وقت لگ جاتا...